اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خبررساں ادارے ITAR-TASSکے مطابق روس کی طرف سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب آسٹریلیا کی طرف سے روس کو یورینیم کی فراہمی پربند ش کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق روسی قومی جوہری کارپوریشن روسٹم کا کہنا ہے روس دنیا کا دوسرا سب سے بڑا یورینیم پروڈیوسر ہے۔ روس بشمول قازقستان کے پاس یورینیم کے خام مال کے ذخائر اتنے ہیںجواگلے سو سال کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں یہ ذخائرنہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی جوہری منصوبوں کی فراہمی کیلئے کا فی ہیں۔کارپوریشن کے نمائندے سرگئی نویکوو کایہ بیان آسٹریلیا کی طرف سے روس کو یورینیم کی ممکنہ بندش کے تناظر میں سامنے آیا۔یورینیم کے دنیا میں سب سے زیادہ ذخائر آسٹریلیا کے پاس ہیں۔2007ء میں، روس اور آسٹریلیا نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون کے ایک بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کئے، اور 2012 ءمیں روس کو آسٹریلوی یورینیم کی پہلی کھیپ موصول ہوئی۔ پابندیوں کی وجہ سے آسٹریلیا کی حکومت روس کو یورینیم کی فراہمی بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔
.......
/169